قرانی طرز زندگی میں عقیدہ معاد کی اثرات کا تحقیقی مطالعہ
Publish place: Studies of Quranic Sciences، Vol: 6، Issue: 12
Publish Year: 1402
نوع سند: مقاله ژورنالی
زبان: Persian
View: 56
نسخه کامل این Paper ارائه نشده است و در دسترس نمی باشد
- Certificate
- من نویسنده این مقاله هستم
استخراج به نرم افزارهای پژوهشی:
شناسه ملی سند علمی:
JR_MAQ-6-12_004
تاریخ نمایه سازی: 1 بهمن 1403
Abstract:
نوع انسان کیتمام افرادمیں بقا کامیلان اور زندگی سی محبت مکمل طور پر محسوس کی جا سکتی ہی کوئی بھی انسان زندگی اور زندہ رہنیسی بیزار نہیں ہی پس یہ بقا کا میلان خود علامت ہی اس بات پر کہ موت پر زندگی کا خاتمہ نہیں ہوتا اگر موت زندگی کی انتہا ہوتی تو انسان میں اس حس کا وجود لغو عبث شمار کیا جاتا اس سی ثابت یہ ہوتا ہی کہ موت زندگی کا اختتام نہیں ہی موت حقیقت میں ایک محدود اور تنگ ماحول اور دائری سی نکل کر ایک وسیع دنیا میں قدم رکھنا ہی اسی چیز کو اسمانی شریعتں اخروی زندگی کی عنوان سی بیان کرتی ہی ۔تقربیا ہرشریعت میں اس اصل کو معاد اور قیامت کی نام سی بیان کیا گیا ہی چنانچہ قران مجید کی اہم مسائل میں ایک مسئلہ یہی معاد ہی اسی اہمیت کی پیش نظر قران مجید میں کم بیش چودہ سو ایات صریحا معاد کی باری میں ہی بعض کی نزدیک ایک تہائی قرانی حصہ معاد سی مربوطہ ہی۔ہم اس مقالہ میں یہ جاننی کی کوشش کریں گی کہ قرانی طرز زندگی میں جب ایک انسان اخرت پر ایمان لی اتا ہی تو اس کی زندگی کیسی تبدیل ہو جاتی ہی؟اس افکار و اعمال میں کیا کیا تبدیلیاں واقع ہو جاتی ہیں یا اگر معاد پر پختہ ایمان ہی تو اس کی نتیجی میں عملی زندگی پر کیا کیا اثرات مترتب ہونی چاہیں۔عقیدہ معاد دنیا کی زندگی کو بنا دیتا ہی یہ دنیا سی عدم تعلق کا نام نہیں ہی۔
Authors
رعیت علی حیات
جامعه المصطفی العالمیه